نئی دہلی،30؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ چار سال تک مرکز کے اقتدار میں قابض رہنے کے بعد بھی بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت تعلیم، روزگار اور زرعی شعبے کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔پارلیمنٹ میں پیش 2017-18 کے اقتصادی جائزے پر جاری رد عمل میں چدمبرم نے کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کے چار سال اقتدار میں رہنے کے باوجود زراعتی شعبے کے حالات بدتر بنے ہوئے ہیں۔اصل زرعی شعبے میں اضافہ اور حقیقی زراعت آمدنی جوں کی توں ہے ،اس سے پتہ چلتا ہے کہ زرعی شعبے پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔رواں مالی سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 6.75 فیصد رہنے کے دعوے پر بھی انہوں نے سوال اٹھایاکہ سال کی پہلی ششماہی میں اقتصادی ترقی 6 فیصد رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سال کے اختتام پر اقتصادی ترقی 6 سے 6.5 فیصد رہ سکتی ہے۔اس سے زیادہ رہنے کی حمایت میں کوئی حقیقت جائزے میں نہیں دی گئی ہے۔ردعمل میں جائزے کے پیراگراف کا حوالہ دیتے انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی ٹوائلٹ، جن دھن اکاؤنٹ، ایل پی جی کنکشن اور دیہات کے بجلی جیسے اہم منصوبے میں بھی کوئی ٹھوس نتائج حاصل نہیں کر پائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جائزے میں مالی خسارے اور موجودہ اکاؤنٹ کے خسارے کو حساس بتایا گیا ہے۔اس سے مالی مضبوطی میں سست پیش رفت کا اشارہ ملتا ہے۔اس سے حکومت کی اقتصادی پوزیشن مضبوط ہونے کا دعوی جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔